گوجرہ: تین سال قبل پیش آنے والے معروف رانا حارث نور قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقامی عدالت کے معزز ایڈیشنل سیشن جج (ASJ) نے ملزم رانا اجمل کو جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور 5 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنا دی۔
استغاثہ کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ تھانہ صدر گوجرہ کی حدود چک نمبر 363 ج ب، باہمنی والا میں پیش آیا، جہاں ملزم نے مبینہ طور پر سابقہ رنجش کی بنا پر رانا حارث نور کو قتل کر دیا تھا۔ واقعہ کا مقدمہ نمبر 19/23، دفعہ 302 کے تحت مدعی رانا محمد عاطف نور کی مدعیت میں تھانہ صدر گوجرہ میں درج کیا گیا تھا۔
عدالت میں مقدمے کی پیروی مدعی کی جانب سے سینئر قانون دان وقاص احمد مہوٹہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے کی، جنہوں نے استغاثہ کا مؤقف اور دستیاب شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے۔
مقدمے کی کارروائی کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال بھی سامنے آئی، جہاں استغاثہ کے تین چشم دید گواہ مبینہ طور پر ملزم فریق سے سازباز کے باعث عدالت میں شہادت کے لیے پیش نہ ہوئے۔ تاہم عدالت نے مقدمے کے ریکارڈ، فرانزک شواہد اور دیگر دستیاب ثبوتوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ملزم رانا اجمل کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید اور 5 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر استغاثہ کے پاس مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں تو گواہوں کی عدم پیشی کے باوجود بھی عدالت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا سکتی ہے۔

