گوجرہ :ملک بھر میں گندم کی نئی فصل مارکیٹ میں آنے کے باوجود گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے، جس کے باعث شہری شدید پریشانی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4 ہزار روپے فی من سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ دیسی آٹا 140 روپے اور فائن آٹا 145 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ ملنے کے باعث کاشتکار سرکاری خریداری مراکز کے بجائے آزاد منڈی میں گندم فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہی صورتحال گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔
ادھر آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد 15 کلو فائن آٹے کے تھیلے کی قیمت 2200 روپے تک جا پہنچی ہے، جس سے متوسط اور کم آمدن والے طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو مہنگائی کے بوجھ سے کچھ نجات مل سکے۔


