گوجرہ : تھانہ صدر پولیس کی حراست میں موجود سابق مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خالد جاوید وڑائچ کے صاحبزادے عقبہ علی وڑائچ کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملک شاہد علی کھوکھر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
دورانِ سماعت تھانہ صدر پولیس کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ مقدمہ نمبر 102/2025 کے مدعی ذیشان خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے، جس میں اس نے واضح طور پر کہا کہ عقبہ علی وڑائچ اس مقدمے میں نامزد ملزم نہیں ہیں۔ پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ اس بنیاد پر زیر حراست ملزم کو مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔
عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے عقبہ علی وڑائچ کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے اور فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
واضح رہے کہ عقبہ علی وڑائچ پر گوجرہ موٹروے انٹرچینج کے قریب ایک مسافر بس پر فائرنگ کا الزام تھا۔ انہیں اس کیس میں سابق ایس ایچ او تھانہ صدر گوجرہ حاکم علی اور سابق ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار کے دورِ تعیناتی میں نامزد کیا گیا تھا، اور بعد ازاں اشتہاری بھی قرار دیا گیا تھا۔
گزشتہ روز لاہور پولیس نے عقبہ علی وڑائچ کو گرفتار کر کے تھانہ صدر پولیس گوجرہ کے حوالے کیا تھا، تاہم عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔


