
گوجرہ : نواحی گاؤں چک نمبر 156 گ ب پدری، مونگی بنگلہ میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے جہاں تقریباً 30 سال پرانی واٹر سپلائی لائن خستہ حالی کا شکار ہو کر جگہ جگہ سے لیک ہو رہی ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق تقریباً 8 کلومیٹر طویل مرکزی واٹر سپلائی لائن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کے باعث گٹروں کا آلودہ پانی گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث مقامی آبادی مجبوراﹰ آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے، جس سے علاقے میں ہیپاٹائٹس سی سمیت دیگر موذی امراض کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اس اہم عوامی مسئلے کو مقامی شہری محمد لقمان مانی پوریا نے اجاگر کیا اور مختلف فورمز پر مسلسل آواز بلند کرتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ بالآخر سات سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد معاملہ محتسب پنجاب کے دفتر تک پہنچ گیا۔
محتسب پنجاب میں سماعت کے دوران یہ قرار دیا گیا کہ گاؤں کی واٹر سپلائی لائن اپنی مدت پوری کر چکی ہے اور شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کے باعث صاف پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
محکمہ پنجاب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق گاؤں میں نئی واٹر سپلائی لائن بچھانے کے لیے 64.7 ملین روپے کا تخمینہ تیار کر لیا گیا ہے۔
محتسب پنجاب نے ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے سیکرٹری کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے منصوبے پر ضروری کارروائی کریں اور 30 دن کے اندر پیش رفت رپورٹ جمع کروائیں۔
اہلِ علاقہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس فیصلے کے بعد جلد نئی واٹر سپلائی لائن بچھائی جائے گی تاکہ گاؤں کے مکینوں کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی میسر آ سکے۔