ضلع کچہری کو جھنگ گوجرہ روڑ بائی پاس کے قریب شفٹ کرنے کی منظوری، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر 452کنال اراضی میں سے 252کنال کا قبضہ اراضی بورڈ آف ریونیو پنجاب نے دے دیا جبکہ بقیہ 202کنال اراضی کی منتقلی کے لئے بھی عدالت عالیہ لاہور نے بورڈ آف ریونیو کو خط لکھ دیا۔ جوڈیشل کمپلیکس کے لئے مجوزہ نئی جگہ پر سول و سیشن کورٹس، وکلاء کے چیمبر اور جوڈیشل کالونی تعمیر کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق ضلع کچہری شہر کے وسط میں گنجان آباد علاقے میں موجود ہونے سے نہ صرف سائلین کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ شہریوں کو بھی آمدورفت میں شدید پریشانی رہتی ہے۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایش عرصہ دراز سے ضلع کچہری کو شہر کے قریب کم رش والی جگہ پر منتقل کروانے کے لئے کوششیں کرتی رہی ہے۔قبل ازیں بورڈ آف ریونیو پنجاب نے گوجرہ روڑ پر کھجور فارم کے نزدیک موجود 100کنال سرکاری اراضی اس مقصد کے لئے دینے کی حامی بھری تھی لیکن 100کنال جگہ جوڈیشل کمپلیکس کے لئے نا کافی تھی۔
ممبر پنجاب بار کونسل چوہدری محمد مشتاق اور صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن حیدر علی نانگا کی خصوصی کاوشوں اور لگن سے اب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس امیر بھٹی کے حکم پر بورڈ آف ریونیو نے گوجرہ روڑ بائی پاس کے قریب 452کنال اراضی جوڈیشل کمپلیکس کے لئے دینے کی منظوری دے دی ہے۔ مذکورہ جگہ قبل ازیں یونیورسٹی آف جھنگ کے لئے مختص کی گئی تھی لیکن بعد ازاں جب یونیورسٹ آف جھنگ کو چنیوٹ روڑ پر نئی جگہ الاٹ کر دی گئی تو یہ جگہ جوڈیشل کمپلیکس کے لئے دینے کی منظوری دی گئی۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت اور جوڈیشل کالونی کی تعمیر کے لئے فنڈز بھی لاہور ہائی کورٹ کے پاس موجود ہیں جو جلد مختص کر دیئے جائیں گے اور امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ دو ماہ کے دوران نئے جوڈیشل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا۔ شہر میں موجود ہ ضلع کچہری کی جگہ پر عوامی پارک بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
