تحریر: نصیرالدین چشتی
پنجاب کا خوبصورت شہر گوجرہ اس وقت انتہائی بدتر حالات سے دوچار ھے
سارا شہر چوروں ۔ ڈاکوؤں ۔ لٹیروں، منافع خوروں اور قبضہ مافیا کی لپیٹ میں ہے۔
کہاں ہیں اس شہر کی انتظامیہ و عوامی نمائندے ؟؟؟
اور کہاں ہیں وہ لوگ جو شہر میں پانی کا ایک نل لگوا کر اپنے گلوں میں پھولوں کے ھار پہن کر انتظامیہ، پولیس اور اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ کھڑے ھو کر سلفیاں بنواتے ہیں۔
کہاں گے وہ لوگ جو انتظامیہ کو مدعو کر کے تصوریں بنوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں؟
تحصیل گوجرہ کا سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ھے، شہر کے وسط میں موجود اکلوتے ریلوے پاٹک کے دونوں اطراف سڑک کی خستہ حالی آئے روز حادثات کا باعث بنتی ہے، ٹریفک کا جام رہنا معمول بن کر رہ گیا ہے۔
تقریباََ ہر دورہ حکومت میں منسٹر کی سیٹ رکھنے والا یہ شہر اتنا لاوارث کیوں ہے؟
گوجرہ کی عوام کو ڈاکو دن تہاڑے لوٹ رھے ہیں، پولیس کچھ نہیں کر رھی، اگر کر رہی ہے تو ان بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو کیوں نہیں پایا جا رہا۔
شہر کے تمام بازاروں میں دوکانداروں کی عوام سے لوٹ مار جاری ھے ۔۔ کسی دوکان پر کوئی ریٹ لیسٹ موجود نہیں ۔۔ اپنی مرضی کے ریٹ لگتے ہیں ۔۔
سارے شہر پر قبضہ مافیا کا راج ھے ۔۔ بازاروں میں دوکان کے مالکوں نے گورنمنٹ کی جگہ پر اپنے کرایے دار بیھٹا رکھے ہیں ۔۔
شہر میں ٹریفک کا مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر گیا ھے ۔۔ چھوٹی عمروں کے رکشہ ڈرائیور شہر کی سٹرکوں پر دنداناتے پھر رھے ہیں ۔۔ جو کہ حادثات کا باعث بن رھے ہیں ۔۔ لیکن چند تریفک پولیس کے اہلکار سڑک کے ایک کنارے کھڑے یا تو گھپں ھانک رھے ہیں یا چا لان کاٹ رھے ہیں ۔۔
شہر میں کھانے پینے والی چیزوں جن میں گروسری ۔ اور سبزی فروش کی دوکانیں شامل ہیں ۔ حرام خوری کی انتہا کر دی ھے ۔۔ نہ کوئی ریٹ لسٹ اور نہ ھی کوئی ان سے پوچھنے والا ۔۔
گوجرہ کی اسسٹنٹ کمشنر محترمہ سمیرہ عمبرین صاحبہ سے درخواست ھے کہ وہ شہریوں کے ان تمام مسائل پر فوری ایکشن لیں۔
