بچپن کاجگنو


ہم جوان کیا ہوئے بچپن ہی بھول گئے چلو آج بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہیں بچپن کی کچھ نہ بھولنے والی یادوں میں سے اک یاد جگنو پکڑنے کی ہے
آج رات میرے سامنے سے جگنو گزرا
وہ تو گزر گیا لیکن میرا بچپن یاد کروا گیا
چلو تحریر کی جانب بڑھتے ہیں بات ہے کئی سال پرانی جب ہم بچپن کی رنگینیوں میں مکمل طور پر کھو چکے تھے تب جگنو کا عام ہونا بھی معمولی بات تھی رات کا جگنو گھومتے پھرتے اور رات کے اندھیرے میں اپنی روشنی بکھیرتے پھرتے تھے ہم بھی ناداں تھے
ناداں تو آج بھی لیکن ان دنوں کچھ ذیادہ ہی تھے
رات کے اندھیرے میں جگنو کے پیچھے بھاگنا اور پکڑنا کی کوشش کرنا اور اگر جگنو ہاتھ لگ جانا تو پیچھے سے ابو کی گالیوں کی آمد ہونا شروع ہوجاتی تھی اوع مزے کی بات جگنو کے پیشاب کے بارے میں ایک افواہ بھی مشہور تھی کہ جگنو اگر ہاتھ پر پیشاب کردیں تو جان لیوا بیماری لگ سکتی ہے آج اس بیماری کے بارے میں معلوم ہوا کہ بچے جگنو کو پکڑ کر مار دیتے تھے تو والدین جگنو کی جان بچارنے کےلئے بچے کو ڈراتے تھے





بات کرتے جب جگنو پکڑ لیتے تو گالیاں
گالیاں کھاتے اور جگنو چھوڑ دیتے اور چوری جگنو پکڑنے کا ارداہ کرتے چوری پکڑ کر ایک شیشے کی بوتل لیتے اور جگنو پکڑ پکڑ کر اس بوتل میں چھوڑ دیتے جب جگنو آٹھ دس ہوجاتے تو گھر کی اوڑھ چلے جاتے پھر ایک دفعہ امی دوڑ لگواتی کہ جاو دفع ہوجاو اور ان کو چھوڑ کر آو
کہاں مانتے رکھ لیتے اور سو جاتے
صبح اٹھ کر سب سے پہلے اپنے جگنو دیکھتے
کچھ بیچارے سانس نہ لینے کی وجہ سے مر جاتے اور باقی جو بچ جاتے اور کی لائیٹ بند جاتی تھی وہ یہ سمجھ کر چھوڑ دیتے کہ ان کہ سیل ختم ہوگئے ہیں اب ہمارے کس کام کے
معصوم اتنے تھے کہ یہ بھی نہ پتہ ہوتا تھا کہ سیل نہیں ختم ہوئے بلکہ دن کی روشنی میں ان کی روشنی نظر نہیں آتی
اب نہ وہ بچپن رہا اور نہ ہی وہ جگنو رہے





تحریر گزار : محمد لقمان مانی پوریا


اشتہار